تار عنکبوت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مکڑی کا جالا، مکڑی کے جال کا تار، (مجازاً) کمزور ریشہ۔ "اگر آپ مجھ پر بھروسہ کریں گے تو آپ پر ظاہر ہو جائے گا کہ میرا عہد کا عنکبوت کی طرح بودا نہ تھا۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، خونی راز، ٤٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تار' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ماخوذ اسم 'عنکبوت' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٨٠ء میں "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مکڑی کا جالا، مکڑی کے جال کا تار، (مجازاً) کمزور ریشہ۔ "اگر آپ مجھ پر بھروسہ کریں گے تو آپ پر ظاہر ہو جائے گا کہ میرا عہد کا عنکبوت کی طرح بودا نہ تھا۔"      ( ١٩٣١ء، رسوا، خونی راز، ٤٠ )

جنس: مذکر